پاکستان میں ابھی تک تجارتی سطح پر اس کی کاشت محدود ہے، لیکن کراچی، بلوچستان (تربت، لسبیلہ) اور جنوبی پنجاب کے کچھ علاقوں میں لوگ اس کی تجرباتی کاشت کر رہے ہیں۔
چونکہ ایووکاڈو کا درخت گرمی برداشت کر لیتا ہے لیکن زیادہ سردی میں نقصان ہوتا ہے، اس لیے معتدل اور گرم علاقوں میں بہتر اگتا ہے۔
موسم اور آب و ہوا کی ضروریات
ایووکاڈو کو معتدل گرم آب و ہوا چاہیے۔
درجہ حرارت 15 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان بہتر ہے۔
سرد علاقوں (جہاں کہرا پڑتا ہو) میں کامیاب نہیں ہوتا۔
ہلکی نمی والی مٹی میں بہتر بڑھتا ہے۔
زیادہ پانی کھڑا رہے تو جڑیں گل جاتی ہیں۔
بہترین اقسام (Varieties)
پاکستان کے لیے موزوں اقسام
Hass (ہاس)
سب سے زیادہ مشہور قسم دنیا بھر میں
ذائقہ دار اور ہوتا ہے پکنے کے بعد سیاہ رنگ کا ہوتا ہے مارکیٹ میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ اسی کی ہوتی ہے
Fuerte (فیورٹے)
ہلکا سبز اور ہموار ہوتا ہے
سردی زیادہ برداشت کر لیتا ہے
ذائقے میں اچھا ہوتا ہے
Bacon & Zutano
نسبتاً آسانی سے اگتی ہیں لیکن ذائقے میں ہاس سے کم
پھل آنے کا دورانیہ
گرافٹنگ شدہ پودے 2 سے 4 سال میں پھل دینا شروع کر دیتے ہیں۔
بیج سے اگائے گئے درخت 3 سے 5 سال میں پھل دیتے ہیں
پودے کی دیکھ بھال
پانی
ہفتے میں 1-2 بار (ابتداء میں)، بعد میں مہینے میں 2-3 بار
پانی مٹی میں جذب ہونا چاہیے، جمع نہ ہو۔
کھاد
نائٹروجن، فاسفورس، اور پوٹاشیم والی متوازن کھاد
نامیاتی کھاد (گوبر، کمپوسٹ) بھی بہت اچھی ہے
کٹائی (Pruning)
ہر سال شاخوں کی ہلکی کٹائی کریں تاکہ درخت بھرپور رہے
سورج کی روشنی
مکمل سورج میں لگائیں، کم از کم 6-8 گھنٹے سورج کی روشنی ضروری ہے
پودے کا فاصلہ
ایک درخت سے دوسرے درخت کا فاصلہ 15-20 فٹ ہونا چاہیے
کامیابی کے امکانات
اگر صحیح موسم، مٹی، اور خیال رکھا جائے تو کامیاب فصل مل سکتی ہے۔
شہروں میں گھر کے صحن یا بڑے گملوں میں بھی لگایا جا سکتا ہے (لیکن زیادہ پیداوار کے لیے زمین میں لگانا بہتر ہے)۔
مارکیٹ میں اس کی قیمت اچھی ہوتی ہے، اس لیے تجارتی کاشت کا بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔
.png)
0 تبصرے