تھوڑی سی کوشش اور محنت سے صحت بخش اور غذائیت و توانائی سے بھرپور زندگی اب بھی ممکن ہے۔۔۔ بس آپ کو ذرا ہمت سے ٹرائی مارنی پڑے گی۔ اپنے لیے اور اپنے پیاروں کی بہترین صحت کے لیے روزانہ آدھے گھنٹے کی محنت اور تگ و دو آپ کو آپ کی سوچ سے بھی زیادہ فوائد دے سکتی ہے۔۔۔ تو اب شروع ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت و محبت کو ضائع نہیں کرتا۔
کیونکہ ہم خود کچھ نہیں کرتے؟ کرنا نہیں چاہتے۔۔۔
آئیے ہماری اس مہم کا حصہ بنیں۔۔۔ کچن گارڈننگ کریں اور اپنے گھر میں صاف ستھری سبزیاں اگائیں، سپرے کھاد اور گندگی سے پاک۔۔۔ معمولی کوشش کر کے تو دیکھیں، ہم تھوڑے سے روپے خرچ کر کے گرمیوں کی تمام سبزیاں چھے ماہ تک گھر میں تازہ، پاک صاف اور مفت کھا سکتے ہیں۔
Start from February 15 according to your area, weather and place.
ہم گھر پر تھوڑی سی محنت سے، غذائیت سے بھر پور کیمیائی ادویات سے پاک ، صحت کے لیے مفید سبزیاں بڑی آسانی سے اپنے گھر میں اُگا سکتے ہیں۔ گھر کی ملحقہ کیاریوں میں، گملوں میں، چھت پر، بالکونی میں، پلاسٹک کے کریٹس اور گرو بیگز میں موسمی سبزیوں کی کاشت کو کچن گارڈننگ کہتے ہیں۔
کچن گارڈننگ میں زہریلی ادویات سے پاک سبزیوں اور پھلوں کے حصول کے ساتھ ساتھ اچھا ترتیب دیا ہوا گارڈن گھر کی خوبصورتی کو بھی بڑھاتا ہے۔
سبزیات اپنی طبی و غذائی اہمیت کی وجہ سے حفاظتی خوراک کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں۔ ماہرین خوراک کے مطابق انسانی جسم کی بہترین نشوونما کے لیے غذا میں سبزیوں کا استعمال 300 سے 500 گرام فی کس روزانہ ضروری ہے، پاکستان میں اس وقت فی کس روزانہ استعمال صرف 50 گرام تک ہے۔ نیز بازار سے مضر صحت اور زہریلی ادویات کی سپرے والی سبزیاں انتہائی خطرناک ہو سکتی ہیں، شاید اسی لیے آج کل بہت سی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے تمام تر ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سبزیات کی پیداوار میں بہترین اضافہ کریں۔ گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت (کچن گارڈننگ) اس سلسلہ میں انتہائی مؤثر کاوش ہے۔ ہم زیادہ نہیں تو جو سبزی خود کو پسند ہے یا گھر میں خوشی سے کھائی جاتی ہے اس کو تو گھر میں ضرور اُگائیں۔
کچن گارڈننگ کے لیے چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
فروری ، مارچ ، اپریل میں حفاظتی اقدامات کے ساتھ موسم گرما کی سبزیوں کی کاشت کی جا سکتی ہے۔
جگہ ایسی منتخب کریں جہاں 2 سے 5 گھنٹے دھوپ آتی ہو۔
غذائیت والی مٹی کی بار بار گوڈی کر کے اس کو ایک فٹ گہرائی تک اچھی طرح تیار کریں۔ اس دوران آپ اس میں پتوں کی گلی سڑی کھاد شامل کر سکتے ہیں، اس کے بعد کیاریاں ترتیب دیں۔
گوبر کی اچھی گلی سڑی کھاد، پتوں کی کھاد کا استعمال نہ صرف زمین کی زرخیزی میں بلکہ زمین کی ساخت اور پانی جذب کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کا باعث ہے۔
2 گیلن سے 7 گیلن یعنی 8 انچ سے 13 انچ گہرے گرو بیگز (کپڑے کے مضبوط تھیلوں) میں تمام گھریلو سبزیاں آسانی سے لگائی جا سکتی ہیں۔۔۔ لیکن خیال رکھیں کہ ان بیگز میں بھل مٹی سے تیار کردہ بہترین آمیزہ یا غذائیت والی مٹی ہی ڈالنی ہے۔
اوپر دی گئی لسٹ میں سے اپنی پسند کے بیج منتخب کریں اور معیاری بیج حاصل کر کے کچن گارڈننگ کے لیے ریڈی ہو جائیں۔۔۔ مکمل راہنمائی کے لیے ہم حاضر ہیں۔
پنیری سب سبزیوں کی بنانی ضروری نہیں ہوتی، لیکن سلاد، پیاز، ٹماٹر ، بینگن، مرچ ، شملہ مرچ، پھول اور بند گوبھی وغیرہ کی پنیری تیار کی جاتی ہے۔
پنیری کی لیے کمپوسٹ، کوکوپیٹ اور تیار بھل اور گوبر کھاد کا آمیزہ اور سیڈلنگ ٹرے، چھوٹا گملا، روشنی، حرارت ، نمی اور مناسب درجہ حرارت درکار ہوتا ہے۔
کیڑوں اور بیماریوں کے تدارک کے لیے نیم کے بیج اور پتوں کے عرق کا استعمال بہت مفید ہے۔ تمباکو کا پانی ، اور گھر پر ہم آسانی سے لیکوئیڈ ڈش واش میں لہسن کا رس مکس کر کے سپرے بنا کر استعمال کر سکتے ہیں۔ گھر میں تیار کردہ دیسی NPK بہت اچھا فرٹیلائزر اور لیکوئیڈ سپرے ہے۔
.png)
0 تبصرے